بنگلورو،4/فروری(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے اس بات کا اعادہ کئے جانے کے بعد کہ وہ تمام اسکولوں میں لازمی طور پر کنڑ زبان کی تعلیم کے سلسلہ میں اپنے فیصلہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی کئی والدین اور اسکولوں کی انتظامیہ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔والدین نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ریاست میں کئی بچوں کی مادری زبان چونکہ کنڑ ا نہیں ہے، ان بچوں کے لئے اس زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کی وجہ سے امتحانات میں ان کے نمبرات کے اوسط میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔والدین اور اسکولوں کی طرف سے پڑ رہے اس دباؤ کے درمیان ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کنڑا زبان کا سیکھنا اور اس کا نصاب کتنا مشکل یا آسان ہے؟ کرناٹک ٹیکسٹ بک سوسائٹی کے ڈائرکٹر ٹی این ایم مادے گوڈا کاا کہنا ہے کہ ریاست میں پہلی اور دوسری زبان کے طور پر جو کنڑ زبان کا نصاب تیار کیا گیا ہے ان کے درمیان مشکلات کے سلسلہ میں کافی بڑا فرق پایا جاتا ہے، مادے گوڈا کا کہنا ہے کہ دوسری زبان کے طور پر کنڑ کی جو نصابی کتب تیار کی گئی ہیں وہ بہت ہی زیادہ آسان ہیں اور انہیں ان بچوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے، جن کی مادری زبان کنڑا نہیں ہوتی۔